Showing posts with label story. Show all posts
Showing posts with label story. Show all posts

Thursday, 25 October 2018

Biography of Jaun Elia

جون ایلیا(14 دسمبر1931۔۔۔۔۔۔8 نومبر 2002)۔۔۔اصل نام سید جون اصغر تھا۔۔۔۔امروہہ میں پیدا ہوئے۔۔۔۔کراچی میں انتقال ہوا ۔۔۔زاہدہ حنا سے شادی ہوئی۔

حلقہ ذوق میں اپنے انوکھے اور بے باک انداز سے سراہے گئے۔
یہ سب باتیں آپ میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں اسلیے تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ہم یہاں ایک اور پہلو پہ بات کرنا چاہتے ہیں۔

یہ جو نئی نسل ایلیائی بنی پھرتی ھے،کوئی جون کو حضرت لکھتا ھے تو کوئی مرشد۔۔کیا یہ واقعی جون کو سمجھتے ہیں۔۔؟

اسکا جواب نہیں میں ھے ، ہم نے پہلے ایک بار لکھا تھا کہ دکھ کا اظہار ایک تماشہ ھے اور بقول مشتاق احمد یوسفی یہ تماشہ جون اپنا خود بنواتے تھے۔بھری محفل میں رونا،بین کرنے،لوگ واہ واہ کے انداز میں تماش بینی کرتے تھے،

یہی تماش بینی نئی نسل کر رہی ھے۔ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں جون نے روتے ہوئے ایک شعر پڑھا تو سامعین ہنسنے لگے۔جون نے روتے ہوئے کہا ” کیا یہ ہنسنے کی بات ھے۔۔۔؟چلو میاں ہنسیے

اس شخص کے کرب کو کسی نے محسوس نہیں کیا بلکہ حظ اٹھایا کیونکہ ہم یہی کرنے کے عادی ہیں۔نئی نسل کو بھی پیالہ ناف، چھاتیوں جیسے الفاظ دیکھ کر حظ اٹھانے کا موقع ملا اور یہ ایلیائی بن گئے۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ایسا کیوں ہوا۔۔؟
جون اور زاہدہ میں بہت ذہنی ہم آہنگی تھی جس کے بارے جون نے کہا ”کہ اگر دنیا میں زاہدہ اور میری محبت ناکام ہوسکتی ھے تو کس کی بھی ہوسکتی ھے۔۔

معاملہ یہ تھا کہ جون شروع سے رومان پسند طبیعت کے مالک تھے،بچپن میں ایک صوفیہ نام کے کردار سے انہیں محبت تھی،

مذہبی جنونیوں کے سخت خلاف تھے اور برملا اسکا اظہار کیا کرتے تھے لیکن جب انکے بھائی رئیس امروہی کا انہی مذہبی جنونیوں نے قتل کیا تو پھو جون نے اپنے خیالات کا اظہار محفلوں میں کرنا کم کردیا۔

جون کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ عملی زندگی سے نالاں تھے،یعنی کمانا،ذمہ داریاں اٹھانا۔انکی تباہی کی یہی بنیادی وجہ تھی۔زندگی نام ہی عمل کا ھے۔کیا فیض ، فراز یا ان کے عم عصروں نے نہیں کمایا؟۔۔۔

دوسرا ظلم ان کے ساتھ اس معاشرے نے کیا،یعنی انکا استعمال کیا،لوگ جون کو سننے کے لیے صبح تک بیٹھے رہتے تھے۔جون کا وہ کلام بھی چھپوایا گیا جو وہ نہیں چھپوانا چاہتے تھے اور پیسے بٹورے گئے۔

6 سال کی عمر سے شعر کہنے والے جون کا پہلا مجموعہ 60 سال کی عمر میں آیا کیونکہ وہ اپنا لکھا دنیا کو دیکھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔جون کی یہ بولڈ شاعری اور تحریرات در اصل انکی ڈائری کی مانند تھیں،

ہم میں سے کون ہے جسے جسم کی طلب نہیں۔۔؟ہم اپنے دوستوں کے ساتھ محفلوں میں اس طلب کا اظہار کرتے ہیں جون نے یہ اظہار ڈائری کی شکل میں لکھ کر کیا۔۔جون کی بدقسمتی کہ انکے کرب کو سمجھنے کی بجائے لوگ اس کلام سے حظ اٹھانے لگے۔

ہمارے نزدیک جون کا یہ بے باک کلام اس ملک میں چھپنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ یہ قوم سمجھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ھے۔

جون کے ساتھ وہی ہوا جو ساغر صدیقی کے ساتھ ہوا۔ہاں اس وقت میڈیا نہیں تھا ، جون کے زمانے میں میڈیا تھا تو جون اپنے دکھوں کا اظہار کر کے تماشہ بن گئے۔کثرت شراب نوشی اور نا امیدی نے انہیں سسک سسک کر مرنے کے مقام پہ لا کھڑا کیا۔

ہمارے نزدیک ساغر ان سے بڑے شاعر ہیں جنہیں لوگ ہیروئن دے کر کلام لکھواتے تھے اور اپنے نام سے چھپوا دیتے تھے۔۔

ہاں ہم یہاں ایک شخص کا تذکرہ ضرور کرنا چاہیں گے جس نے حقیقی معنوں میں نہ صرف جون کا ساتھ دیا بلکہ انہیں عملی زندگی کی طرف لانے میں بھی کوشاں رھے،یہ صاحب عبیداللہ علیم کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کے بارے خود جون کے الفاظ سننے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہمیں اس نئی نسل کے رویے پر کوئی حیرانی نہیں ھے کیونکہ جب اس شخص کی بیٹی ہی اسے نہ سمجھے تو دوسرے لوگوں سے کیا گلہ۔۔ہم نے جون کی بیٹی کو ایک انٹرویو میں جون کی زندگی اور شاعری پر بات کرتے دیکھا۔ہم نے یہ سوچتے ہوئے موصوفہ کی ویڈیو چلنے دی کہ کچھ نیا جاننے کو ملے گا لیکن انکو یہ فرماتے سنا کہ جون ایک ایتھسٹ(ملحد) تھے اور علما کے ان پر فتوے ہیں۔۔

کاش اس بی بی کے سامنے ہم ہوتے تو ان سے پوچھتے کہ کیا ملحد بار بار محفلوں میں حسین کی قسم ، حسین کے خون کی قسم ، کربلا کی قسم جیسی قسمیں اٹھاتے ہیں۔۔

محترمہ نے جون کا یہ مصرعہ بھی پڑھا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”کوئی رہتا ھے آسماں میں کیا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

خدانے پیدا کیا ھےتو شکوے شکایتیں بھی اسی سے کرینگے اور کفر کے فتوے تو ہر شخص پر موجود ہیں۔بس انکی عقل پہ ماتم کے سوا ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

ہم اس نئی نسل کو ایلیائی تب مانیں جب یہ ارد گرد کئی لوگوں کو جون نہ بننے دیں ، ہم انہیں تب تماش بین نہ کہیں جب یہ کافر کافر کا کھیل کھیلنے والے مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف زبان کھولیں۔

اگر یہ پیالہ ناف پر ہی واہ واہ کرکے ایلیائی ہونے کے دعویدار ہیں تو یہ ایلیائی نہیں صرف تماش بین ہیں،صرف تماش بین۔

History of Jaun Elia
Biography of Jaun Elia
Detail about Jaun Elia
Who is Jaun Elia

Wednesday, 24 October 2018

Mohabbat Ki Shaadiyan

محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 50000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 30000 ” لو میرجز ” تھیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔
آپ کراچی کی مثال لے لیں جہاں 2010 میں طلاق کے40410کیسسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ 2015 میں صرف خلع کے 13433 سے زیادہ کیسسز نمٹائے گئے ۔

گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔ 
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔ 
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔ 
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔ 
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔ 
جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔

یاد رکھیں

مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے جو کہ ایک مثالی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
: آج عورت گوشت کی دکان لگتی ھے اور باھر کتے انتظار مین کھڑے ھین کہ۔۔۔۔
۔
آج عورت کے پھٹے کپڑے سے اسکی غربت کا احساس نہین ھوتا بلکہ جسم دیکھنے کی سوچ ھوتی ھے۔۔۔
۔ 
​اِسلام نے عَورت کو عِزَّت دِی ہے یا آج کے جَدِید و تَرَقِّى يافتہ مُعاشرے نے؟ آج اگر ایک پاؤ گوشت لیں تو شاپِنگ بیگ میں بَند کر کے لے جاتے ہیں، اور پَچاس کِلو کی عَورت بغیر پَردے کے بازاروں میں گُهومتی ہے. کیا یہی ہے آج كا جَدِيد مُعاشره کہ کهانا تو پاکِیزه ہو اور پَکانے والی چاہےجیسی بِهی ہو؟​

​جَدِيد مُعاشرے كا عَجِيب فَلسَفہ:​
​لوگ اپنی گاڑیوں کو تو ڈھانپ کر رکهتے ہیں تاکہ اُنہیں دُهول مِٹِّی سے بَچا سکیں، مگر اپنی عَورتوں کو بے پَرده گُهومنے دیتے ہیں چاہے اُن پر کِتنی ہِی گَندی نَظریں کِیوں نہ پَڑیں؟​

​دَورِ جَدِید کی جاہِلیَّت:​
​عَورت کی تَصاوِیر اِستِعمال کر کے چَهوٹى بڑی تمام کمپنِیاں اپنی تِجارت کو فَروغ دیتی ہیں، یہاں تک کہ شَيوِنگ كَرِيم میں بِهی اِس کی تَصاوِير ہوتی ہیں. فَرانس و اَمرِیکہ میں جِسم فَروشی کا شُمار نَفع بَخش تِجارت کے زُمرے میں آتا ہے. اُن لوگوں نے اِسلامی مُمالِک میں بِهی ڈَورے ڈال لِئے ہيں. مُسَلمان عَورت کو بِهی جَہَنَّم کی طرف لے جا رہے ہیں. چُنانچہ مُسَلمان عَورت تَہذِیبِ جَدِید کے نام پر بے پَردہ پِهرنے لگی ہے.​

​ماسٹر پَلان كے ذريعے نئى نَسل کو تَباه کِیا جا رہا ہے:​

​غَور کِیجِئے!​
​ہر اِشتِہار میں لڑکا لڑکی کے عِشق کی کہانی مِلے گی.​

​ذرا سوچِیئے!​
​- سَیون اَپ کے اِشتِہار میں مَحَبَّت کا کیا کام؟​
​- تَرَنگ چائے کے اِشتِہار میں گَلے لگنے اور ناچنے کا کیا کام؟​
​- موبائِل کے اِشتِہار میں لڑکے لڑکِیوں کی مَحَبَّت کا کیا کام؟​

​دیکِهيئے!​
​آج کوئی نوجوان اِس فحاشی سے بَچ نہیں پایا. سِکهایا جا رہا ہے کہ آپ بِهی شیطان کی پَیروی کریں، فحاشی کریں، مَوج کریں.​

​آج عَورت خُود اِتنی بے حِس ہو چُکی ہے کہ جو بِهی پَردے کی بات کرے اُس کے خِلاف سَڑکوں پر نِکل آتی ہے. جبكہ ایک ایک روپے کی ٹافِیوں، جُوتوں، حَتّٰى كہ مَردوں كى شَيو كرنے كے سامان تک کے ساتھ بِکنے پر کوئی اِحتِجاج نہیں کرتی، بلکہ اِسے رَوشَن خیالِی کی عَلامَت سمجهتی ہے.​

​لمحۂ شَرمِندگى:​
​آج ہر بِکنے والی چِیز کے ساتھ عَورت کی حَیاء اور مَرد کی غَیرت بِهی بِک رہی ہے.​

​نام نِہاد پَرده… صِرف فَيشن كيلِئے:​
​فِی زَمانہ بُرقَعہ اِتنا دِلكَش و دِلفَريب ہے کہ اُس کے اُوپر ايک اور بُرقَعہ اَوڑهنے کى ضُرُورت ہے.​

​”پَرده نَظَر کا ہوتا ہے.“​
​اِسی سوچ نے آدِهی قَوم کو بے پَرده کر دِیا ہے.​

​مَرد آنکهیں نِیچِی نہیں کرنا چاہتا، عَورت پَرده كرنے کو جہالت سمجهتی ہے… مگر دونوں کو مُعاشرے ميں عِزَّت و اِحتِرام کی تلاش ہے.​

​بے پَرده نَظَر آئِيں كَل جو چَند بِيبِياں…​
​اَكبؔر زَمِيں ميں غَيرَتِ قَومِى سے گَڑھ گيا.​

​پُوچها جو اُن سے آپ كا پَرده وه كيا ہُوا…؟​
​كہنے لگِيں كہ عَقل پَہ مَردوں كى پَڑ گيا.​

​(اَكبؔر اِلہٰ آبَادِى)​

​پَرده عَورت کے چہرے پر ہوتا ہے، اگر چہرے پر نہیں تو سمجھ لِیجِئے کہ عَقل پَہ پَڑا ہُوا ہے.​

​اگر جِسم کی نُمائِش کرنا ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہونے کی عَلامَت ہے تو پِهر جانور اِنسَانوں سے بہت زیاده ماڈَرن و تَرَقِّی یافتہ ہیں.​

​پہلے شَرم کی وجہ سے پَرده کِیا جاتا تها اور اَب پَرده کرتے ہُوئے شَرم آتی ہے.​
۔پڑھ کر اگنور کرنا ہے یا واہ واہ کرنا ہے عمل کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے...

اگر آپ اس سے متفق ھیں تو  اس تحریر کو ضرور شیئر کریں

Aap Ki Jameela (Great Love Story)

آپ کی جمیلہ
-------------
وہ دونوں کلاس فیلو تھے‘ لڑکی پوری یونیورسٹی میں خوبصورت تھی اور لڑکا تمام لڑکوں میں وجیہہ‘ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور آخر میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے‘ معاملہ رومیو جولیٹ جیسا تھا‘ دونوں کے خاندان ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے‘ شادی مشکل تھی‘ دونوں باعزت گھرانوں کے سعادت مند بچے تھے‘ یہ بھاگ کر شادی کیلئے تیار نہیں تھے اور خاندان اپنے اپنے شملے نیچے
نہیں لا رہے تھے لہٰذا معاملہ پھنس گیا‘ لڑکے اور لڑکی نے پوری زندگی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں رہتے رہے‘ پانچ سال دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا‘ والدین شادی کی کوشش کرتے مگر یہ انکار کرتے رہے یہاں تک کہ لڑکی کے والدین ہار مان گئے‘ لڑکی نے لڑکے کو فون کیا‘ لڑکے نے فون اٹھایا‘ لڑکی کی صرف ہیلو سنی اور کہا ”مجھے بتاؤ‘ میں نے بارات لے کر کب آنا ہے“ دونوں کے والدین ملے‘ شادی ہوئی اور دونوں نے اپنا گھر آباد کر لیا‘ لڑکے نے کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ خوش حال ہو گئے‘ یہ شادی بیس سال چلی‘ اس دوران تین بچے ہو گئے‘ خاتون کو اپنے حسن‘ اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا‘ وہ تھی بھی ناز کے قابل‘ وہ 45 سال اور تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود جوان لگتی تھی‘ خاوند بھی روز اول کی طرح اس پر فریفتہ تھا‘ وہ روز جی بھر کر بیوی کی تعریف کرتا تھا لیکن پھر ایک دن وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا‘ خاتون کی گردن پر چھوٹی سی گلٹی نکلی اور یہ گلٹی پھیلتے پھیلتے ناسور بن گئی‘ ڈاکٹروں کو دکھایا‘ ٹیسٹ ہوئے‘ پتہ چلا خاتون جلد کے کینسر میں مبتلا ہیں‘ خاوند صرف خاوند نہیں تھا وہ اپنی بیوی کا مہینوال تھا‘ وہ اپنی ران چیر کر بیوی کو کباب بنا کر کھلا سکتا تھا‘ وہ بیوی کو لے کر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں کے پاس گیا‘ ایک کلینک سے دوسرے کلینک‘ ایک ڈاکٹر سے
دوسرے ڈاکٹر اور ایک ملک سے دوسرے ملک‘ وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا‘ خاتون کا جسم گلٹیوں سے بھر گیا‘ یہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک دن دوسری آفت آن پڑی‘ خاوند کی گاڑی ٹرک سے ٹکرائی اور وہ شدید زخمی ہو گیا‘ وہ ہسپتال پہنچا‘ پتہ چلا وہ بینائی کی
نعمت سے محروم ہو چکا ہے‘ آپ اس کے بعد المیہ ملاحظہ کیجئے‘ شہر کا خوبصورت ترین جوڑا‘ بدقسمتی‘ بیوی جلد کے کینسر کی مریض اور خاوند آنکھوں سے اندھا‘
لوگ انہیں دیکھتے تھے تو کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے لیکن یہ دونوں اس کے باوجود مطمئن تھے‘ یہ روز صبح باغ میں واک بھی کرتے تھے‘ سینما بھی جاتے تھے اور ریستورانوں میں کھانا بھی کھاتے تھے‘ بیوی خاوند کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ چلتی تھی‘ وہ اسے گائیڈ کرتی تھی اور خاوند بیوی کی گائیڈینس پر چلتا جاتا تھا‘ یہ سلسلہ بھی کئی ماہ تک چلتا رہالیکن پھر بیوی نے خاوند سے ایک عجیب مطالبہ کر دیا‘ وہ اکیلی سوئٹزرلینڈ جانا چاہتی تھی‘ خاوند نے وجہ پوچھی‘ بیوی کا کہنا تھا وہ دس پندرہ دن اکیلی رہنا چاہتی ہے‘
خاوند نے اس کے ساتھ جانے کی ضد کی لیکن وہ نہ مانی‘ اصرار اور انکار بڑھتا رہا یہاں تک کہ آخر میں وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے‘ خاوند نے بیوی کو اجازت دے دی۔بیوی سوئٹزر لینڈ چلی گئی‘ خاوند نے وہ دس دن بڑی مشکل سے گزارے‘ وہ شادی کے 20 برسوں میں ایک دن کیلئے بھی اکیلے نہیں ہوئے تھے‘ یہ ان کی جدائی کے پہلے دس دن تھے‘ یہ دس دن پہاڑ تھے‘ خاوند اس پہاڑ تلے سسکتا رہا‘ دس دن بعد بیوی نے آنا تھا‘ خاوند ائیرپورٹ پہنچا لیکن بیوی نہ آئی‘
خاوند کو دنیا ڈولتی ہوئی محسوس ہوئی‘ وہ سارا دن بیوی کو فون کرتا رہا‘ بیوی سے رابطہ نہ ہوا لیکن شام کو بیوی کا خط آ گیا‘ وہ خط ان کے بیٹے نے پڑھا‘ وہ خط صرف خط نہیں تھا‘ وہ ایک تحریری قیامت تھی اور پورا خاندان اس تحریری قیامت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اس قیامت کی طرف آنے سے قبل آپ کو دنیا کی ایک خوفناک لیکن دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں۔دنیا میں ایسے بے شمار سینٹرز ہیں جہاں آپ اپنی مرضی سے مر سکتے ہیں‘ یہ سینٹرزلاعلاج مریضوں کیلئے بنائے گئے ہیں‘
دنیا میں یہ لوگ جب امراض کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں اور یہ چین کی موت مرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان سینٹرز میں جاتے ہیں‘ اپنی میڈیکل رپورٹس دکھاتے ہیں‘ ڈاکٹرز ان کی حالت اور رپورٹ چیک کرتے ہیں‘ ان سے یہ حلف نامہ لیتے ہیں ”ہم اپنی مرضی سے دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں“ ان کی مرضی سے ان کی موت کا دن اور وقت طے کرتے ہیں‘ ان کی آخری خواہش پوری کرتے ہیں اور پھر انہیں زہر کا ٹیکہ لگا کر دنیا سے رخصت کر دیتے ہیں‘ یہ عمل طبی زبان میں یوتھانیزیا(euthanasia)یعنی آسان موت کہلاتا ہے‘یہ دنیا کے 7 ممالک میں قانونی ہے اور اتنے ہی ملکوں میں اس کی اجازت کیلئے بحث چل رہی ہے‘
سوئٹزر لینڈ بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں یوتھانیزیا کو قانونی سٹیٹس حاصل ہے‘ زیورخ شہرمیں یوتھانیزیا کا سینٹر بنا ہے‘ یہ سینٹر انتہائی خوبصورت جگہ پر قائم ہے‘ سینٹر کے کمرے پہاڑوں‘ آب شاروں اور جھیلوں کے کنارے بنائے گئے ہیں‘ مریض بیڈ پر لیٹ کر زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں دیکھتے ہیں اور آخر میں مہربان ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاتھوں میں زندگی کی سرحد پار کر جاتے ہیں‘ وہ خاتون بھی یوتھانیزیاکیلئے سوئٹزر لینڈ گئی تھی‘ وہ کینسر کا دکھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی چنانچہ اس نے آسان موت لینے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ زیورخ گئی‘
زندگی کے آخری دس دن گزارے اور عین اس وقت اپنے لئے موت کا تعین کر لیا جب اس کی فلائیٹ نے وطن کی مٹی کو چھونا تھا‘ ادھر فلائیٹ اتری اور ادھر وہ زندگی کی سرحد پار کر گئی‘ خاتون کا آخری خط بیٹے کے ہاتھ میں تھا‘ وہ سسکیاں لے لے کر خط پڑھ رہا تھا اور خاوند سر جھکا کر اپنی بیگم کا ایک ایک لفظ سن رہاتھا۔بیوی نے اپنی پوری زندگی کا احاطہ کیا‘ اس نے بتایا‘ وہ جب پہلی بار یونیورسٹی میں ملے تھے تو اس نے کیا محسوس کیا تھا‘ وہ یونیورسٹی میں لڑتی کیوں تھی اور وہ کون سا دن تھا جب لڑتے لڑتے اسے اس سے محبت ہو گئی تھی‘ اس نے فراق کے وہ پانچ سال کیسے گزارے تھے اور اس نے شادی کے بعد اپنے بچوں کو ملازموں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑے رکھا تھا ”میں اپنی محبت کو تقسیم نہیں کر سکتی تھی‘ میں تمہارا حصہ اپنے بچوں کو بھی نہیں دے سکتی تھی“
اس نے 20 سال کی ازدواجی زندگی کس مسرت اور سرشاری میں گزاری اور پھر جب اسے پہلی گلٹی نکلی تو اس نے کیا محسوس کیا‘ وہ خود کو روز بروز بدصورت ہوتا ہوا دیکھتی تھی تو اس کے دل پر کیا گزرتی تھی‘ وہ قدرت کا یہ فیصلہ بھی سہتی چلی گئی لیکن پھر عجیب واقعہ ہوا”آپ نے پہلے بچے بورڈنگ سکول میں بھیج دیئے‘ میں جانتی تھی آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا‘ آپ نہیں چاہتے تھے میرے بچے مجھے اس حالت میں دیکھیں اور پھر میں ان کی آنکھوں میں اپنے لئے ترس دیکھوں‘
پھر آپ ملازموں کو رشوت دیتے تھے اور وہ روزانہ کوئی نہ کوئی شیشہ توڑ دیتے تھے‘ میں آپ سے شیشے لگوانے کا کہتی تھی‘ آپ ہنس کر ٹال جاتے تھے یوں آہستہ آہستہ گھر سے سارے آئینے غائب ہو گئے‘ آپ نہیں چاہتے تھے میں اپنی آنکھوں سے اپنی بدصورتی دیکھوں‘ بات اگر یہاں تک رہتی توبھی میں برداشت کر جاتی لیکن آپ نے آخر میں عجیب کام کیا‘ آپ نے ایکسیڈنٹ کیا اور خود کو اندھا ڈکلیئر کر دیا‘ میں جانتی ہوں آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں‘ آپ مسلسل چھ ماہ سے اندھے پن کی ایکٹنگ کر رہے ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نہیں چاہتے تھے
میرے دل میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ خیال آئے میں آپ کو بدصورت دکھائی دے رہی ہوں یا میں آپ کی آنکھوں میں اپنی بدصورتی کو پڑھ لوں چنانچہ آپ اندھے بن گئے‘ آپ کا یہ مصنوعی اندھا پن محبت کی انتہا تھی‘ میں یہ انتہا برداشت نہ کر سکی چنانچہ میں نے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ میں دنیا سے جا رہی ہوں‘ آپ اب پلیز اندھے پن کی یہ ایکٹنگ بند کر دیں‘ یہ خط پکڑیں اور خود پڑھنا شروع کر دیں“ یہاں پہنچ کر بیٹے کے منہ سے چیخ نکل گئی‘
باپ نے اس کے ہاتھ سے خط لیا اور اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ”آپ پلیز میرے بعد اپنا خیال رکھئے گا‘ سارے تولئے الماری میں رکھے ہیں‘ میں درزی کو پانچ سال کے کپڑے دے آئی ہوں‘ وہ سال میں دس جوڑے سی کر دے جائے گا‘ آپ نے وہ سارے کپڑے پھٹنے گھسنے تک پہننے ہیں‘ دانت چیک کراتے رہا کریں اور صبح کی سیر کبھی نہیں بھولنی اور آخری بات چڑیوں کو روز دانا ڈالنا ہے اور میری بلیوں کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے‘ اللہ حافظ۔ آپ کی جمیلہ“۔خاوند نے خط تہہ کر کے جیب میں رکھا اور چڑیوں کے دانے کا ڈبہ تلاش کرنے لگا۔

Tuesday, 20 March 2018

Adaten Naslon ka Pta Deti han

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں ۔

Wednesday, 26 November 2014

Nice story of a child

A child go to a ice cream shop and asked to shopkeaper about big cup of ice cream..
Child: how much prize of big cup of ice cream?
Shopkeaper: 15 Rs
Child counted his money and asked
How much prize of little cup?
Shopkeaper: 12Rs
Child give him 12Rs and bought a little cup of ice cream and leave there..

When the shopkeaper go for taking the empty cup of ice cream grom the table of child
There was little drops of water in shopkeaper's eyes by seeing there was 3Rs on the table as the shopkeaper's tip.
Lesson: YOU can give a big happines to others by refusing your little happines....
Its a great story.....

Tuesday, 18 November 2014

Mera hath chor dona. Sad love story

ﺳﺎﺣﺮ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﮨﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ
ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ
ﺍﺭﮮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﮔﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﺎﺗﮫ
ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﻣﯿﺮﺍ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺑﮭﻼ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ
ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺯﺩﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ
ﮨﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﺻﺒﯿﺤﮧ ﺻﺒﯿﺤﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﺒﻮﺭ
ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺩﮮ
ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﺍﻣﻦ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﮭﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮮ
ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﻮﺕ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ
ﺁﻧﺴﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﭘﺮ ﺳﺎﺣﺮ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﮬﮑﯿﻞ
ﺩﯾﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﺮﻡ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮫ ﭘﺎﯾﺎ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺨﺮﻭﻃﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺳﺎﺣﺮ
ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺛﺒﺖ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺧﺮ
ﺗﻢ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ
ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﮨﻨﺮ
ﺍﭼﮭﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮑﮯ
ﻣﺨﻤﻠﯽ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺎﻥ ﺳﺠﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ
ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ
ﮨﺎﮞ ﭘﮑﮍﮮ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﺎ
ﻓﮑﺮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﮍﻭﺍ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ
ﺍﭼﮭﺎ ﺳﺎﺣﺮ ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻭ ﻣﺠﮭﮯ
ﺁﺝ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻋﺪﮦ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﻟﻮ ﮐﺮﻭ
ﮔﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ
ﺻﺒﯿﺤﮧ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪ ﭘﯿﮑﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﮐﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﭘﯿﮑﭧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩﻥ
ﮐﮭﻮﻟﻮ ﮔﮯ
ﺟﺲ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﺳﻔﯿﺪ ﭼﻢ ﭼﻤﺎﺗﺎ
ﻟﺒﺎﺱ ﮨﻮﮔﺎ
ﺟﺴﮯ ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮐﻔﻦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ
ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﻤﮑﺶ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ
ﭘﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﺎ ﺑﮭﺮﻡ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﺎ
ﺍﺳﮑﯽ ﺯﺍﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮑﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﺑﮭﯽ
ﺳﺎﺣﺮ ﮐﻮ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺻﺒﯿﺤﮧ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﺁﺝ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺰﺭﮮ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ
ﮔﺰﺭ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺻﺒﯿﺤﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺣﺮ ﮐﮯ
ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ
ﺻﺒﯿﺤﮧ ﮐﮯ ﻣﺨﻤﻠﯽ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ
ﻭﮨﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﭘﮩﻠﮯ
ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺴﮑﺎﻥ ﺩﮬﺮﯼ ﮨﮯ
ﺑﺲ ﺻﺮﻑ ﻓﺮﻕ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺍﺳﮑﯽ ﭘﻠﮑﯿﮟ
ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺉ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﮞ
ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ﺁﺝ ﻓﺰﺍ ﻣﯿﮟ
ﺭﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﮭﻮﻝ ﺭﮨﯽ
ﺁﺝ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮫ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﺮ
ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ
ﺁﺝ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﮑﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﺳﻔﯿﺪ ﭼﻢ ﭼﻤﺎﺗﺎ
ﻟﺒﺎﺱ ﮨﮯ
ﮨﺎﮞ ﯾﮩﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺻﺒﯿﺤﮧ ﮐﯿﻨﺴﺮ
ﺳﮯ ﻧﮧ ﻟﮍ ﺳﮑﯽ
ﺻﺒﯿﺤﮧ ﻣﺮ ﮔﺊ
ﺳﺎﺣﺮ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ
ﺑﺎﺗﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮨﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ..
ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺍﺳﮑﮯ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺎﻥ ﯾﺎﺩ
ﮨﮯ
ﮨﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﻋﺪﮮ
ﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭘﯿﮑﭧ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
ﺳﺎﺣﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ
. ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﮯ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ
ﺳﺎﺣﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﺍﺳﮑﮯ
ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﮨﻮﮔﺊ
ﺳﺎﺣﺮ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺉ ﺍﻟﺘﺠﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺑﺮﺱ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭘﯿﮑﭧ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﺳﮯ
ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭘﯿﮑﻨﮓ ﺗﮭﯽ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﺗﮭﯽ
ﺗﯿﻦ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﻠﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻭ
ﮔﮯ
ﺳﺎﺣﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺟﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ
ﮐﺮﻟﻮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﺁﮔﺊ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﺩﺍﻉ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ؟
ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﺳﮯ ﺳﻤﺒﻞ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ
ﺩﻭ ﻧﺎ