Thursday, 23 May 2019

Tum Sarwat Ko Parhti Ho Ali Zaryoun


تم ثروت کو پڑھتی ھو؟
کتنی اچھی لڑکی ھو

میں جنت سے نکلا تھا
اور تم مجھ سے نکلی ھو

بات نہیں سنتی ھو،کیوں ؟
غزلیں بھی تو سنتی ھو

کیا رشتہ ھے شاموں سے ؟
سورج کی کیا لگتی ھو ؟

لوگ نہیں ڈرتے رب سے
تم لوگوں سے ڈرتی ھو ؟

آدم ؟؟ اور سدھر جائے ؟؟
تم بھی حد ھی کرتی ھو

میں تو جیتا ھوں تم میں
تم کیوں مجھ پر مرتی ھو ؟

مصرعوں میں باتیں کرنا
تم آسان سمجھتی ھو ؟

کیوں انکار کروں اِس کا ؟؟
تم اِس جسم میں رہتی ھو

پیار ھے یہ،"تبلیغ" نہیں
کس چکر میں پڑتی ھو ؟

کس نے جینز کری ممنوع ؟؟
پہنو ! اچھی لگتی ھو .. !

کافی ھو مُلتان کی تم
اور زریون کی مستی ھو!


علی زریون

Tum Sarwat Ko Parhti Ho
Kitni Achi Larki Ho

Main Jannat Se Nikla Hun
Aur Tum Mujh Se Nikli Ho

Baat Nahi Sunti Ho
Ghazlen Bhi to Sunti Ho

Kya Rishta Hai Shaamo Se
Suraj Ki Kya Lagti Ho

Log Nahi Dartay Rab Se
Tum Logo Se Darti Ho

Aadam Aur Sudhar Jaye
Tum Bhi Had Hi Karti Ho

Main To Jeeta Hun Tum Men
Tum Q Mujh Par Marti Ho

Misro Men Baat Karna 
Tum Aasaan Samajhti Ho

Q Inkaar Karun Iska
Tum Is Jisam Men Rehti Ho

Pyaar Hai Ye Tableegh Nahi
Tum Kis Chakkar Men Parti Ho

Kisne Jeans Kari Mamnu
Pehno Achi lagti Ho

Kaafi Ho Multaan Ki Tum
Aur  Zaryoun Ki Masti Ho

Ali Zaryoun

Tur e Sena Hai Sar Karogy Mian Ali Zaryoun



طورِ سینا کو سر کرو گے میاں
اپنے اندر سفر کرو گے میاں

دلِ درویش اک مدینہ ہے
تم مدینے میں شر کرو گے میاں

وہ جو اک لفظ مر گیا یہاں
اسکی کس کو خبر کرو گے میاں

تم ہمیں روز یاد کرتے ہو
پھر تو تم عمر بھر کرو گے میاں

ایک ہی زندگی ہے اور وہ بھی
احتیاطاً بسر کرو گے میاں

وقت کم ہے، معاملہ سنگین
بات کو مختصر کرو گے میاں

اتنے ہی خواب دیکھنا ہوں گے
جتنی انکھوں میں گھر کرو گے میاں

علی زریون

Tur e Seena Hai Sar Karogy Mian
Apnay Andar Safar Karogy Mian

Dil e Darvesh Ik Madina Hai
Tum Madine Men Shar Karogy Mian

Wo Jo Ik Lafz Mar Gaya Yahan
Uski Kisko Khabar Karogay Mian

Tum Hamen Roz Yaad Kartay Ho
Phi To Umar Bhar Karogay Mian

Aik Hi Zindagi Hai or Wo Bhi
Ahtitatan Basar Karogay Mian

Waqat Kam Hai Mamla Sangeen
Baat ko Mukhtasar Karogay Mian

Utnay Hi Khaab Dekhna Hongy
Jitni Aankho Men Ghar Karogay Mian

Ali Zaryoun


Saturday, 27 October 2018

Hath Khali Han Tere Shehar se Jaty Jaty by Rahit Indori

haath ḳhālī haiñ tire shahr se jaate jaate
jaan hotī to mirī jaan luTāte jaate
ab to har haath kā patthar hameñ pahchāntā hai
umr guzrī hai tire shahr meñ aate jaate
ab ke māyūs huā yāroñ ko ruḳhsat kar ke
jā rahe the to koī zaḳhm lagāte jaate
reñgne kī bhī ijāzat nahīñ ham ko varna
ham jidhar jaate na.e phuul khilāte jaate
maiñ to jalte hue sahrāoñ kā ik patthar thā
tum to dariyā the mirī pyaas bujhāte jaate
mujh ko rone kā salīqa bhī nahīñ hai shāyad
log hañste haiñ mujhe dekh ke aate jaate
ham se pahle bhī musāfir ka.ī guzre hoñge
kam se kam raah ke patthar to haTāte jaate

Thursday, 25 October 2018

Biography of Jaun Elia

جون ایلیا(14 دسمبر1931۔۔۔۔۔۔8 نومبر 2002)۔۔۔اصل نام سید جون اصغر تھا۔۔۔۔امروہہ میں پیدا ہوئے۔۔۔۔کراچی میں انتقال ہوا ۔۔۔زاہدہ حنا سے شادی ہوئی۔

حلقہ ذوق میں اپنے انوکھے اور بے باک انداز سے سراہے گئے۔
یہ سب باتیں آپ میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں اسلیے تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ہم یہاں ایک اور پہلو پہ بات کرنا چاہتے ہیں۔

یہ جو نئی نسل ایلیائی بنی پھرتی ھے،کوئی جون کو حضرت لکھتا ھے تو کوئی مرشد۔۔کیا یہ واقعی جون کو سمجھتے ہیں۔۔؟

اسکا جواب نہیں میں ھے ، ہم نے پہلے ایک بار لکھا تھا کہ دکھ کا اظہار ایک تماشہ ھے اور بقول مشتاق احمد یوسفی یہ تماشہ جون اپنا خود بنواتے تھے۔بھری محفل میں رونا،بین کرنے،لوگ واہ واہ کے انداز میں تماش بینی کرتے تھے،

یہی تماش بینی نئی نسل کر رہی ھے۔ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں جون نے روتے ہوئے ایک شعر پڑھا تو سامعین ہنسنے لگے۔جون نے روتے ہوئے کہا ” کیا یہ ہنسنے کی بات ھے۔۔۔؟چلو میاں ہنسیے

اس شخص کے کرب کو کسی نے محسوس نہیں کیا بلکہ حظ اٹھایا کیونکہ ہم یہی کرنے کے عادی ہیں۔نئی نسل کو بھی پیالہ ناف، چھاتیوں جیسے الفاظ دیکھ کر حظ اٹھانے کا موقع ملا اور یہ ایلیائی بن گئے۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ایسا کیوں ہوا۔۔؟
جون اور زاہدہ میں بہت ذہنی ہم آہنگی تھی جس کے بارے جون نے کہا ”کہ اگر دنیا میں زاہدہ اور میری محبت ناکام ہوسکتی ھے تو کس کی بھی ہوسکتی ھے۔۔

معاملہ یہ تھا کہ جون شروع سے رومان پسند طبیعت کے مالک تھے،بچپن میں ایک صوفیہ نام کے کردار سے انہیں محبت تھی،

مذہبی جنونیوں کے سخت خلاف تھے اور برملا اسکا اظہار کیا کرتے تھے لیکن جب انکے بھائی رئیس امروہی کا انہی مذہبی جنونیوں نے قتل کیا تو پھو جون نے اپنے خیالات کا اظہار محفلوں میں کرنا کم کردیا۔

جون کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ عملی زندگی سے نالاں تھے،یعنی کمانا،ذمہ داریاں اٹھانا۔انکی تباہی کی یہی بنیادی وجہ تھی۔زندگی نام ہی عمل کا ھے۔کیا فیض ، فراز یا ان کے عم عصروں نے نہیں کمایا؟۔۔۔

دوسرا ظلم ان کے ساتھ اس معاشرے نے کیا،یعنی انکا استعمال کیا،لوگ جون کو سننے کے لیے صبح تک بیٹھے رہتے تھے۔جون کا وہ کلام بھی چھپوایا گیا جو وہ نہیں چھپوانا چاہتے تھے اور پیسے بٹورے گئے۔

6 سال کی عمر سے شعر کہنے والے جون کا پہلا مجموعہ 60 سال کی عمر میں آیا کیونکہ وہ اپنا لکھا دنیا کو دیکھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔جون کی یہ بولڈ شاعری اور تحریرات در اصل انکی ڈائری کی مانند تھیں،

ہم میں سے کون ہے جسے جسم کی طلب نہیں۔۔؟ہم اپنے دوستوں کے ساتھ محفلوں میں اس طلب کا اظہار کرتے ہیں جون نے یہ اظہار ڈائری کی شکل میں لکھ کر کیا۔۔جون کی بدقسمتی کہ انکے کرب کو سمجھنے کی بجائے لوگ اس کلام سے حظ اٹھانے لگے۔

ہمارے نزدیک جون کا یہ بے باک کلام اس ملک میں چھپنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ یہ قوم سمجھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ھے۔

جون کے ساتھ وہی ہوا جو ساغر صدیقی کے ساتھ ہوا۔ہاں اس وقت میڈیا نہیں تھا ، جون کے زمانے میں میڈیا تھا تو جون اپنے دکھوں کا اظہار کر کے تماشہ بن گئے۔کثرت شراب نوشی اور نا امیدی نے انہیں سسک سسک کر مرنے کے مقام پہ لا کھڑا کیا۔

ہمارے نزدیک ساغر ان سے بڑے شاعر ہیں جنہیں لوگ ہیروئن دے کر کلام لکھواتے تھے اور اپنے نام سے چھپوا دیتے تھے۔۔

ہاں ہم یہاں ایک شخص کا تذکرہ ضرور کرنا چاہیں گے جس نے حقیقی معنوں میں نہ صرف جون کا ساتھ دیا بلکہ انہیں عملی زندگی کی طرف لانے میں بھی کوشاں رھے،یہ صاحب عبیداللہ علیم کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کے بارے خود جون کے الفاظ سننے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہمیں اس نئی نسل کے رویے پر کوئی حیرانی نہیں ھے کیونکہ جب اس شخص کی بیٹی ہی اسے نہ سمجھے تو دوسرے لوگوں سے کیا گلہ۔۔ہم نے جون کی بیٹی کو ایک انٹرویو میں جون کی زندگی اور شاعری پر بات کرتے دیکھا۔ہم نے یہ سوچتے ہوئے موصوفہ کی ویڈیو چلنے دی کہ کچھ نیا جاننے کو ملے گا لیکن انکو یہ فرماتے سنا کہ جون ایک ایتھسٹ(ملحد) تھے اور علما کے ان پر فتوے ہیں۔۔

کاش اس بی بی کے سامنے ہم ہوتے تو ان سے پوچھتے کہ کیا ملحد بار بار محفلوں میں حسین کی قسم ، حسین کے خون کی قسم ، کربلا کی قسم جیسی قسمیں اٹھاتے ہیں۔۔

محترمہ نے جون کا یہ مصرعہ بھی پڑھا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”کوئی رہتا ھے آسماں میں کیا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

خدانے پیدا کیا ھےتو شکوے شکایتیں بھی اسی سے کرینگے اور کفر کے فتوے تو ہر شخص پر موجود ہیں۔بس انکی عقل پہ ماتم کے سوا ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

ہم اس نئی نسل کو ایلیائی تب مانیں جب یہ ارد گرد کئی لوگوں کو جون نہ بننے دیں ، ہم انہیں تب تماش بین نہ کہیں جب یہ کافر کافر کا کھیل کھیلنے والے مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف زبان کھولیں۔

اگر یہ پیالہ ناف پر ہی واہ واہ کرکے ایلیائی ہونے کے دعویدار ہیں تو یہ ایلیائی نہیں صرف تماش بین ہیں،صرف تماش بین۔

History of Jaun Elia
Biography of Jaun Elia
Detail about Jaun Elia
Who is Jaun Elia

Umar Guzray Gi Imtehan Main Kya?

عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

مری ہر بات بے اثر ہی رہی
نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

خود کو دنیا سے مختلف جانا
آگیا تھا مرے گمان میں کیا

ہے نسیمِ بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

(جون ایلیا)💜

Kitnay Aish Laraty Hongy, Kitnay Itraty Honge

کِتنے عیش اُڑاتے ہونگے، کِتنے اِتراتے ہونگے
جانے کیسے لوگ وہ ہونگے، جو اُسکو بھاتے ہونگے
۔
اُسکی یاد کی بادِ صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
یُوں ہی میرے بال ہیں بِکھرے، اور بِکھر جاتے ہونگے
۔
وہ جو نہ آنے والا ہے نا!! اُس سے ہم کو مطلب تھا
آنے والوں سے کیا مطلب، آتے ہیں آتے ہونگے
۔
یارو!! کچھ تو حال سُناؤ، اُسکی قیامت بانہوں کا
وہ جو سِمٹتے ہونگے اُن میں، وہ تو مر جاتے ہونگے
۔
- جون ایلیاء